مرزا صاحباں

قسم کلام: اسم علم

معنی

١ - پنجاب کی ایک منظوم عشقیہ لوک داستان جو گائی جاتی ہے۔ "آخر میں ہم ایک منظوم عشقیہ لوک داستان کا حوالہ دیتے ہیں جسے بالخصوص راگ تلنگ میں ہی گایا جاتا ہے وہ ہے مرزا صاحباں۔"      ( ١٩٧٧ء، نورنگ موسیقی، ٩٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'مرزا' کے ساتھ عربی زبان سے اسم 'صاحباں' لگانے سے مرکب 'مرزا صاحباں' بنا۔ اردو میں بطور 'اسم' مستعمل ہے۔ ١٩٧٧ء کو "نورنگ موسیقی" میں مستعمل ہوا۔

مثالیں

١ - پنجاب کی ایک منظوم عشقیہ لوک داستان جو گائی جاتی ہے۔ "آخر میں ہم ایک منظوم عشقیہ لوک داستان کا حوالہ دیتے ہیں جسے بالخصوص راگ تلنگ میں ہی گایا جاتا ہے وہ ہے مرزا صاحباں۔"      ( ١٩٧٧ء، نورنگ موسیقی، ٩٤ )

جنس: مذکر